پاکستان ملٹری اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ



English
وحید احمد
ملٹری اکاؤنٹنٹ جنرل

رابطہ نمبر. 9270709 51 (92‏)‏



داخلی احتساب

داخلی احتساب کی صورتحال

الف۔ احاطہ

تمام یونٹوں اور فارمیشنز کا اندرونی احتساب سٹیشنز پر کام کرنے والے ایل اے اوز کے ذریعے سی ایل اے (ڈی ایس) کرواتا ہے۔ تمام رقمی اور ذخیرہ جاتی کھاتوں کا احتساب ایل اے اوز کرتے ہیں۔ ذخائر / رقوم کا عددی احتساب ایک مقرر کردہ حد تک کیا جاتا ہے جو کہ ایم اے جی آفس طے کرتا ہے۔ اگر یونٹوں/فارمیشنز کے دورے کے دوران کسی اہم پوچھ گچھ وغیرہ کیلئے کسی بنیادی کھاتے یا حساب تک مکمل رسائی میں مشکل کا سامنا ہو تو ایل اے او ، سی ایل اے (ڈی ایس) ؛ ایم اے جی آفس کو مکمل حقا‏ئق سے آگاہ کرتا ہے تا کہ احتساب کے دائرہ کار میں اضافہ کیا جا سکے۔

تمام یونٹوں/فارمیشنز کا احتساب ششماہی بنیادوں پر کیا جاتا ہے۔ پورے دورانیے کی عام چھان بین کی بجائے کسی ایک چنیدہ مہینے کا مکمل احتساب کیا جاتا ہے۔

داخلی احتساب کے نتیجے میں پچھلے تین سالوں میں درج ذیل رقوم یونٹوں/فارمیشنز سے واپس خزانے میں جمع کرائی جاتی ہیں۔

ب۔ عملے کی قابلیت

لوکل آڈٹ آفسز اکاؤنٹس آفیسرز، اسسٹنٹ اکاؤنٹس آفیسرز اور سینیر آڈیٹرز پر مشتمل ہوتے ہیں۔ یہ اکاؤنٹس آفیسرز اور اسسٹنٹ اکاؤنٹس آفیسرز تجربہ کار اور قوانین / قاعدوں پر بہترین عبور رکھتے ہیں۔ ان کی جانب سے بھیجی گئی رپورٹوں کی ڈی سی ایل اے (ڈی ایس) اور سی ایل اے (ڈی ایس) کی سطح پر مزید جانچ پڑتال کی جاتی ہے۔ رپورٹوں کے اجراء سے قبل ان پر ایل اے او اور متعلقہ یونٹ کے سی او کے درمیان بحث کی جاتی ہے۔ جیسا کہ یہ حقیقت ہے کہ ایل اے اوز کے عملے کی قابلیت کسی شک و شبہ سے بالاتر ہے۔

یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ پی ایم اے ڈی کے اکثر مقامات پر اپنے دفاتر اور رہائشگاہیں موجود ہیں اور اس حوالے سے یہ ڈیفنس سروسز پر کم سے کم انحصار کرتا ہے۔ اس طرح آزادانہ احتساب کرسکتا ہے۔

پ۔ رپورٹوں کا طریق کار

مقررہ مدت کے کھاتوں کے احتساب کی تکمیل پر ملنے والے اعتراضات/مشاہدوں ایل اے اوز اور متعلقہ یونٹ کے سی او کے درمیان بحث کی جاتی ہے۔ بحث کے بعد آڈٹ رپورٹ یونٹ کو جاری کی جاتی ہے بمع ایک کاپی ڈی سی ایل اے (ڈی ایس) اور ایک سی ایل اے (ڈی ایس) کے آڈٹ سیکشن کے۔

رپورٹوں کی جانچ پڑتال اور اعترضات کی درجہ بندی ان اصولوں کے تحت کی جاتی ہے۔

زمرہ - الف: کاروائی سے متعلقہ نقائص/مشاہدات اور معمولی اعتراضات۔

زمرہ - ب: مالی بےقاعدگیاں اور گورنمنٹ / اعلی حکام کی منظوری سے متعلقہ نکات۔

زمرہ - پ: ایسی چیزیں جو جی ایس اے رپورٹ میں شمولیت کے قابل سمجھی جاتی ہیں۔

زمرہ 'الف' کے معاملات متعلقہ ایل اے او ہی حل کر سکتا ہے، اگر اعتراضات کے جواب تسلی بخش پائے جائیں یا ایگزیکیٹو کی طرف سے اسے باقاعدہ کرنے کیلئے ضروری اقدامات اٹھا لیے جائیں۔ زمرہ 'ب' اور 'پ' کے حل کےلیے ڈی سی ایل اے/سی ایل اے (ڈی ایس) کی منظوری چاہیئے ہوتی ہے۔

پ۔ بیرونی محاسبے کی جوابدہی

ڈپٹی ایم اے جی ڈی جی ڈیفنس آڈٹ کی رپورٹوں پر نظر رکھتا ہے اور سی ایم اے اور ڈی جی ڈی اے کے درمیان ایک رابطہ افسر کے طور پر کام کرتا ہے۔ رپورٹوں پر علاقائی / مقامی سطح پر بھی ڈائریکٹرز اور سی ایم اے کے درمیان بحث کی جاتی ہے۔ پیش رفتی اقدام اٹھائے جاتے ہیں، اور جہاں لاپرواہی محسوس کیجائے ایڈوانس پیرے اور متعلقہ عملے کے خلاف تادیبی کارروائی کی جاتی ہے۔